10 اگست 2026 - 16:29
جروزالم پوسٹ: مکہ دفاعی معاہدہ خطرناک ہے!

تل ابیب: اسرائیلی اخبار جروزالم پوسٹ نے سعودی عرب، ترکی اور پاکستان کے درمیان ہونے والے مشترکہ دفاعی معاہدے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ یہ معاہدہ محض ایک فنی مفاہمت تک محدود نہیں بلکہ خطے کے تزویراتی اور سلامتی کے توازن کو تبدیل کر سکتا ہے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، اسرائیلی اخبار جروزالم پوسٹ نے اپنے ایک تجزیے میں کہا ہے کہ سعودی عرب، ترکی اور پاکستان کے درمیان طے پانے والا مشترکہ دفاعی معاہدہ، جسے مکہ دفاعی معاہدہ بھی کہا جا رہا ہے، مشرق وسطیٰ کے تزویراتی توازن کو تبدیل کر سکتا ہے اور خطے کو ایک خطرناک صورتحال سے دوچار کر سکتا ہے۔

اخبار کے مطابق معاہدے کے اعلان کے صرف ایک روز بعد پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے اسرائیل کو ’’پوری مسلم دنیا کے لیے خطرہ‘‘ قرار دیتے ہوئے اس کے خلاف ’’متحدہ فوجی محاذ‘‘ تشکیل دینے کی بات کی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ اتحاد محض ایک تکنیکی سمجھوتے سے کہیں آگے بڑھ سکتا ہے۔

جروزالم پوسٹ نے خبردار کیا کہ اسرائیلی قیادت اس اتحاد کو صرف ایک فنی معاملے کے طور پر نہیں دیکھ سکتی، خصوصاً ایسے وقت میں جب اس کے ایک رکن پاکستان کی جانب سے اسرائیل کے خلاف مسلم دنیا کو عسکری طور پر منظم کرنے کی بات کی جا رہی ہے۔

تاہم اخبار نے زور دیا کہ اسرائیل کو سعودی عرب کے ساتھ اپنے تعلقات کے دروازے مکمل طور پر کھلے رکھنے چاہئیں، کیونکہ تل ابیب کے مفاد میں ہے کہ سعودی عرب کو امریکہ کی قیادت میں ایک علاقائی سلامتی کے ڈھانچے میں شامل کرنے کی کوششیں تیز کی جائیں، جس میں اسرائیل اور بعض عرب ممالک بھی شامل ہوں۔

رپورٹ کے مطابق ایسے ڈھانچے کا مقصد صرف سفارتی اور تجارتی تعلقات تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ ایران کے مقابلے کے لیے مستقل اتحاد تشکیل دینا، میزائل اور فضائی دفاع کے شعبے میں تعاون بہتر بنانا اور تجارتی راستوں کا تحفظ بھی اس کے مقاصد میں شامل ہونا چاہیے۔

جروزالم پوسٹ نے واشنگٹن کو بھی مکہ میں ہونے والی پیش رفت پر خصوصی توجہ دینے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ کے دیرینہ اتحادی سعودی عرب کا ترکی اور جوہری ہتھیار رکھنے والے پاکستان سے اضافی سکیورٹی تعاون حاصل کرنا اس بات کی خطرناک علامت ہے کہ ریاض کو امریکی سکیورٹی ضمانتوں پر پہلے جیسا اعتماد نہیں رہا۔

اخبار کے مطابق امریکی حکومت کو یہ سوال کرنا چاہیے کہ اس کے اہم عرب اتحادیوں میں سے ایک کو متبادل سکیورٹی ڈھانچے کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی اور اس بات کو کیسے روکا جا سکتا ہے کہ یہ نیا اتحاد کھلے عام اسرائیل مخالف پالیسی اختیار کرے۔

جروزالم پوسٹ نے اسرائیل کو مشورہ دیا کہ وہ سعودی عرب کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کی کوششیں جاری رکھنے کے ساتھ ساتھ ریاض کے ساتھ واضح اور براہِ راست مذاکرات کرے۔ اخبار کے مطابق سعودی عرب مشرق وسطیٰ میں استحکام کے قیام میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے اور اسرائیل کے پاس ریاض کے ساتھ تعلقات مضبوط کرنے کی متعدد وجوہات موجود ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ معاہدے کی عملی تفصیلات، مثلاً کسی حملے کی صورت میں فریقین کی جانب سے فراہم کی جانے والی لازمی فوجی امداد کی نوعیت اور مقدار، ابھی مکمل طور پر سامنے نہیں آئی۔ تاہم اس کا مجموعی ڈھانچہ بازدارندگی اور مشترکہ سلامتی کے اصول پر مبنی ہے اور اسے اقوام متحدہ کے منشور کی دفعہ 51 کے تحت انفرادی اور اجتماعی دفاع کے حق کے تناظر میں پیش کیا گیا ہے۔

بعض مبصرین کے مطابق یہ معاہدہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کی جانب سے اجتماعی سلامتی کو مضبوط بنانے اور بیرونی سکیورٹی ضمانتوں پر مکمل انحصار کم کرنے کی کوشش کی عکاسی کرتا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha